11 اشعار

اپنے پرتو ہی میں خالق نے بنایا ہے مجھے

Apne partau hī meñ Khāliq ne banāyā hai mujhe

اپنے پرتو ہی میں خالق نے بنایا ہے مجھےزعم دارائی اسی وجہ سے آیا ہے مجھے

کس کا غم ہوں کہ مشیت نے منایا ہے مجھےکس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے

محو حیرت ہے تری شعبدہ بازی پر دلیہ بنایا ہے کہ اس طور مٹایا ہے مجھے

یاس اور آس کا اک سوز بھرا نغمہ ہوںساز احساس پہ ارمانوں نے گایا ہے مجھے

چند لمحات کی سطحی سی مسرت کے لیےلال انگاروں پہ خواہش نے نچایا ہے مجھے

حسرت و رنج ہو یا عشرت و سر مستی ہوایک ہی رنگ میں احباب نے پایا ہے مجھے

دم تو لینے دو ذرا ٹھہرو بھیانک سپنوتھپکیاں دے کے امیدوں نے سلایا ہے مجھے

صاحبو کوئے ملامت میں ندامت کیسیشوق رسوائی یہاں کھینچ کے لایا ہے مجھے

دل کہے میں ہوں فسردہ مرا ہنسنا معلوموہ خرابہ ہوں کہ حسرت نے بسایا ہے مجھے

روز و شب پھرتا ہوں آشفتہ سر و آوارہاس قدر تیری محبت نے ستایا ہے مجھے

آنکھیں چنچل ہیں مگر من ہے مرا بیراگیکرشن موہنؔ یہ ملن موہ کی مایا ہے مجھے

— کرشن موہن