9 اشعار

نیند کی گولیاں کھا کے سوتا ہے وہ

Nīnd kī goliyāñ khā ke sotā hai vo

نیند کی گولیاں کھا کے سوتا ہے وہرات بھر کتنا مدہوش ہوتا ہے وہ

رونے والوں پہ ہنسنا تھا اس کا چلنآج کیوں ہنسنے والوں پہ روتا ہے وہ

اپنے عصیاں کے داغوں کو شام و سحراشک ہائے ندامت سے دھوتا ہے وہ

واہموں وسوسوں میں الجھ کر عبثجان کھوتا ہے دل کو ڈبوتا ہے وہ

میری آفات میں اپنی ہر بات میںطنز و طعنہ کے نشتر چبھوتا ہے وہ

جھوٹ بھی اس کا معلوم ہوتا ہے سچداستاں میں حقیقت سموتا ہے وہ

کیوں نہ پائے مراد اپنی مرد عملکشت امید میں عزم بوتا ہے وہ

محفلوں کا تمنائی ہے آدمیاپنے جسم جواں کو سنجوتا ہے وہ

کرشن موہنؔ کے اذکار کی بات کیاشعر کہتا ہے موتی پروتا ہے وہ

— کرشن موہن