6 اشعار

البیلی کامنی کہ نشیلی گھڑی ہے شام

Albailī kāmnī ke nashīlī ghaṛī hai shām

البیلی کامنی کہ نشیلی گھڑی ہے شامسر مستیوں کی سیج پہ ننگی پڑی ہے شام

بے کل کیے ہے رین کے رسیا کا انتظارغمگیں ہے حسن شوخ کہ حیراں کھڑی ہے شام

چمکا دیا ہے اس کے شراروں نے فکر کواحساس عشق و حسن کی اک پھلجڑی ہے شام

تاباں ہے تیرا چہرہ کہ ہے جلوۂ سحررخشاں ہے تیری مانگ کہ تاروں جڑی ہے شام

روٹھے ہوئے دلوں کو بھی اس نے منا لیامن موہنی ہے کامنی چنچل بڑی ہے شام

جانے کب آئے آج سا ہنگام دل نوازیارو اٹھاؤ جام گھڑی دو گھڑی ہے شام

— کرشن موہن