7 اشعار

بھٹک کے راہ سے ہم سب کو آزما آئے

Bhaṭak ke rāh se ham sab ko āzmā āye

بھٹک کے راہ سے ہم سب کو آزما آئےفریب دے گئے جتنے بھی رہنما آئے

ہم ان کو حال دل زار بھی سنا آئےکمال جرات اظہار بھی دکھا آئے

کریں تو کس سے کریں ذکر خانہ ویرانیکہ ہم تو آگ نشیمن کو خود لگا آئے

خیال وصل میں رہتے ہیں رات بھر بیدارتمہارے ہجر کے ماروں کو نیند کیا آئے

رہین عیش و طرب ہیں جو روز و شب ان کوپسند کیسے مرے غم کا ماجرا آئے

کبھی ہمیں بھی میسر ہو روٹھنا ان سےکبھی ہمارے بھی دل میں یہ حوصلہ آئے

ہر اک سے پوچھتے ہیں حال کرشن موہنؔ کاجسے ادائے ستم سے وہ خود مٹا آئے

— کرشن موہن