10 اشعار

اندر کا چمکیلا ہیرا

Andar Ka Chamkeela Heera

کتنے دنوں تکراجا کے دربار میں اک سادھو آتا تھا

جو اس کو روز اک پھل دے جاتا تھاراجا بے حس بے پروا سا

اس پھل کو مخزن کے اک کونے میں پھینک دیا کرتا تھااک دن جب وہ سادھو آیا

راجا کے بندر نے اس سے وہ پھل چھینااور جو کھایا تو اس میں سے

ایک چمکتا ہیرا نکلاراجا حیراں سادھو غائب

راجا پھر مخزن کے اس کونے میں پہنچااور وہاں دیکھا ہیروں کا ڈھیر لگا تھا

اور پھل کے چھلکے بکھرے تھےکون تھا وہ سادھو اور آج کہاں غائب ہے

وہ پھل کیا ہے جو ہر روز ملے ہم کو لیکن ہم اس کاانتر دیکھ نہ پائیں اس کی قدر نہ جانیں

ظاہر کے سادھارن روپ میں اندر کا چمکیلا ہیراجس نے بھی پہچانا اپنے آپ کو جانا

باہر سے معمولی لگنے والے پھل کو پھینک دیا تواس کے اندر کا ہیرا اوجھل ہی رہے گا

— کرشن موہن