5 اشعار

شرطیہ لڑکا

Sharatiya Ladka

کیسے کیسے وہم پلتے ہیں بشر کے ذہن میں بھیچند جرعے شیر کا خوں نوش کرنا رات کو میتھن سے پہلے

یا کشادہ چاندنی میں کیف اندوز وصال شوق ہوناوجہ اولاد نرینہ

اور پھر بقراط نے بھی یہ کہا تھامرد اپنے دائیں خصیے پر جو رسی باندھ لے ملنے سے پہلے

اس کی عورت شرطیہ لڑکا جنے گیلیکن اس انداز کی ہرزہ سرائی

کب کسی کے کام آئیکیسے کیسے وہم پلتے ہیں بشر کے ذہن میں بھی

— کرشن موہن