7 اشعار

زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا

Zindagī ke ākhirī lamhe khushī se bhar gayā

زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیاایک دن اتنا ہنسا وہ ہنستے ہنستے مر گیا

بجھ گیا احساس طاری ہے سکوت بے حسیدرد کا دفتر گیا سامان شور و شر گیا

شخص معمولی مرا جو مال وافر چھوڑ کرمرتے مرتے تہمتیں چند اپنے ذمے دھر گیا

اس قدر سنجیدہ تھا وہ دفعتاً بوڑھا ہوااور پھر اک دوپہر بیوی کو بیوہ کر گیا

دور درشن پر طرب آگیں تماشا دیکھ کرخوش ہوا وہ اس قدر مارے خوشی کے مر گیا

در حقیقت موت کا مطلب تو ہے نقل مکاںجس طرح کمرے کے اندر سے کوئی باہر گیا

کرشن موہنؔ یہ بھی ہے کیسا اکیلا پن کہ لوگموت سے ڈرتے ہیں میں تو زندگی سے ڈر گیا

— کرشن موہن