8 اشعار

ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں

Ham to ab jātī rateñ haiñ ham se yeh aghmāz kyūñ

ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوںجرم کیا ہم نے کیا ہے آپ ہیں ناراض کیوں

مال و زر سے بہرہ وافر نہ دینا تھا اگراے خدا تو نے دیا مجھ کو دل فیاض کیوں

رشتہ زر رشتہ خوں سے ہے بڑھ کر معتبرورنہ چاہت کے لیے قرضہ بنے مقراض کیوں

خویش بینی جب کہ اس کا کیش کم اندیش تھادوستی کا پاس کرتا بندہ اغراض کیوں

کیا نئی تہذیب ہے تکذیب اقدار سلیمشہر میں پھیلے ہوئے ہیں جنس کے امراض کیوں

لطف اندوز ریاض دہر کیوں ہوتے نہیںداورا کم ظرف ہوتے ہیں ترے مرتاض کیوں

کچھ حقائق کو اگر میں نے کیا ہے بے نقابہو گئے ناراض مجھ سے شعر کے نباض کیوں

پوچھتے ہیں دے کے مجھ کو دوست داری کا فریبکرشنؔ موہن دوستوں سے اس قدر اعراض کیوں

— کرشن موہن