10 اشعار

کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی

Koī ummeed na bar ā'ī shakībā'ī kī

کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کیاس نے باتوں میں بہت حاشیہ آرائی کی

عشق دن رات رہا کیف و طرب میں سرشارحسن نے سلطنت عشق پہ دارائی کی

نہ ملا پر نہ ملا اپنے مسائل کا حلآستانوں پہ بہت ہم نے جبیں سائی کی

آہ اے سوز دروں میرے جنوں سے اب تکمنزلیں سر نہ ہوئیں بادیہ پیمائی کی

سوچ کا لوچ کبھی ان کو میسر نہ ہوابعض لوگوں نے فقط قافیہ پیمائی کی

کار بے کار ہوئی بس میں سفر کرتا ہوںیہ بھی اک صورت بے کیف ہے مہنگائی کی

شعر کہتا رہوں بہتا رہوں اپنی رو میںچھیڑ چلتی رہے احساس کی پروائی کی

ایک شعر اور سنا دے کہ زمانے بھر میںدھوم ہے تیرے تغزل کی توانائی کی

تنگ ظرفی ہے مرے وہم کا ٹھہرا پانیٹھہرے پانی پہ جمی کائی ہے خود رائی کی

وا دریغا کہ ذرا قدر نہ کی دنیا نےکرشن موہنؔ ترے عرفان کی گہرائی کی

— کرشن موہن