9 اشعار

کجھوراہو

Khajuraho

محبت خواب رنگیں ہےنشاط اختلاط اب نقش سنگیں ہے

کہ پتھر سے تراشیدہ یہ پستان اور یہ رانیں ہیں آرامیدہ پتھر میںفریب زندگی معشوق و عاشق کی ہم آغوش

ہے نظر لمس‌‌ خاموشیخطوط جسم اور جادو نگاہوں کا

فسون و لطف بانہوں کاکشش طناز کولھوں کی

لطافت شوخ پھولوں کینہیں پتھر نہیں یہ شعلۂ احساس ہے رقصاں

ہوس کی آگ بن کر یہ بدن کا راگ ہے رخشاںنہیں اب سرد پتھر ہے

شریر آدرش ہے کس کاملن کا ہرش ہے کس کا

نہ کوئی مرد نے عورتملن ہے شلپ کار اور شلپ میں بس یہ حقیقت ہے

ملن کا ہرش ہے ان کا

— کرشن موہن