10 اشعار

تخلیق

Takhleeq

رات زلفوں کی دل آویز شمیمصحبت شوق کو گرماتی رہی

شاہد شوخ کا پیکر تھا خیالگرم اعضا کا گداز

لذت غمزہ و نازچھڑ گئے ساز کے تار

یوں مچلتی تھیں امنگیں میریجیسے گردوں پہ ستارے چمکیں

خالق زیست کو اک شرم سی محسوس ہوئیاک نئے کرب تمنا کا سہارا لے کر

خواب راحت سے اٹھااور آمادۂ پیکار ہوا

دشت پیکار میں بڑھتا ہی گیابڑھ کے اک چشمۂ سیمیں نے قدم چوم لیے

نور سیال سے مانوس فضادل بے تاب کو راس آنے لگی

جسم آسودہ ہواعرش پر ایک ستارہ ٹوٹا

اک نئی زیست کی تخلیق ہوئی

— کرشن موہن