6 اشعار

مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے

Makāñ andar se khastah ho gayā hai

مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہےاور اس میں ایک رستہ ہو گیا ہے

انہیں منظور کرنا ہی پڑے گاعریضہ دست بستہ ہو گیا ہے

سیاسی رہنماؤں کی بدولتہمارا خون سستا ہو گیا ہے

کمان جسم ہے موجود لیکنشباب اک تیر جستہ ہو گیا ہے

زبوں ہے اس قدر دنیا کی حالتہمارا غم بھی خستہ ہو گیا ہے

شکستہ اور پسپا کرشنؔ موہنہمارا فوجی دستہ ہو گیا ہے

— کرشن موہن