5 اشعار

مدھم ہو گئے اپنے سپنے بے دم ہو گئیں اپنی تلاشیں

Madham ho gaye apne sapne be-dam ho gayin apni talashen

مدھم ہو گئے اپنے سپنے بے دم ہو گئیں اپنی تلاشیںویراں دل میں دفن ہیں کتنی رنگیں امیدوں کی لاشیں

پیہم اپنے اشک بہے ہیں دل نے کیا کیا جور سہے ہیںآفات ناگاہ کے چرکے لوگوں کے طعنوں کی خراشیں

ہر جا ذکر مری نکہت کا ہر جا محرومی کا چرچادنیا میں بدنام ہوئی ہیں قسمت سے میری پرخاشیں

حسن کا جوش نہ عشق کی گرمی محو ہوئے سارے ہنگامےبے جاں مردہ سرد فسردہ زیست کے لمحے برف کی قاشیں

کس نے میری بپتا رد کی کس نے میرا ہاتھ ہٹایااب کیوں سب اپنے بیگانے طعنے دیں الزام تراشیں

— کرشن موہن