15 اشعار

منزل ہے دور کوچ کا سامان کیجیے

Manzil hai door kooch ka saamaan keejiye

منزل ہے دور کوچ کا سامان کیجیےدشوار ہے سفر اسے آسان کیجیے

یہ عقل کی ہے بات اسے مان لیجیےجینا ہے تو سماج سے پیمان کیجیے

کسب کمال فن کا ہے یہ اولیں چلنہر آن اپنے آپ کو قربان کیجیے

ارشاد ہے یہ غالب دانائے راز کاپندار کا صنم کدہ ویران کیجیے

میرا جنوں ہی کوئے ملامت کی جان ہےمیرے فسون شوق کو پہچان لیجیے

رنگ ملال کو نہیں کیف نشاط کوافسانۂ حیات کا عنوان کیجیے

شاید گداز عشق سے ہو جائے آشناناصح کی نذر میرؔ کا دیوان کیجیے

کہتی ہے رمز و راز سے اس کی نگاہ نازمجھ پر نثار مذہب و ایمان کیجیے

آہنگ و رنگ کفر ہے اس کی متاع شوقاردو کو بخشئے نہ مسلمان کیجیے

خوئے وفا میں ہو وہ عزیمت کا بانکپنرسم جفا سے ان کو پشیمان کیجیے

دنیا دنی ہے ہر سگ دنیا کے سامنےکیوں اپنے سوز عشق کا اعلان کیجیے

انساں کی ہست و بود کا ہے اور کیا جوازاپنی نمود سے اسے حیران کیجیے

طرفہ ستم اگر کہ ہو شیطان حکمراںہے مصلحت کہ طاعت شیطان کیجیے

ہم معنیٔ ستم ہے یہ تمکیں نما کرماحساں نہ کیجیے یہی احسان کیجیے

کیا مرد بے نیاز کو اعزاز کی ہوسمیرے لیے نہ دل کو پریشان کیجیے

— کرشن موہن