6 اشعار

ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے

Mila ek goona sukooñ humein jo tumhare hijr mein ro liye

ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیےذرا بار قلب سبک ہوا کئی داغ درد کے دھو لیے

ہو نشاط دل کہ ملال دل ہمیں پیش کرنا جمال دلکبھی ہنس کے پھول کھلا لیے کبھی روکے موتی پرو لیے

ہے رہین غم مری جستجو یہ ہے کیسا گلشن رنگ و بویہاں کچھ گلو کی تلاش میں کئی خار میں نے چبھو لیے

کئی عمر دوڑتے بھاگتے رہے یوں تو شب کو بھی جاگتےکبھی تھک گئے تو ٹھہر گئے کبھی نیند آئی تو سو لئے

سبھی لوگ مست شعور ہیں کہ خودی کے نشے میں چور ہیںکوئی غم شناس نہیں یہاں غم دل کسی پہ نہ کھولیے

یہ انہیں کا نور ہے جس میں ہم چلے حوصلے سے قدم قدمجو سرشک غم کے بہا لیے جو دیے وفا کے سنجو لیے

— کرشن موہن