5 اشعار

نیستی کے وہم نے مدت سے کر رکھا ہے تنگ

Neesti ke wahm ne muddat se kar rakha hai tang

نیستی کے وہم نے مدت سے کر رکھا ہے تنگراس آتا ہی نہیں ہستی کا رنگ

ایک عرصے سے ہوا ہوں بے نیاز نام و ننگاب مرے دل میں نہیں کوئی امنگ

ہے شفق کا عکس تیرے جسم کا آہنگ رقصرنگ کا مرکز ہے تیرا انگ انگ

حسن‌ تہذیب و تمدن پھول پھل سکتا نہیںاس جہاں میں جب تلک باقی ہے جنگ

درد سے کیوں بھر نہ آئے کرب دنیا دیکھ کرکرشن موہنؔ دل نہیں ہے خشت و سنگ

— کرشن موہن