13 اشعار

سمے کہاں تھا کہ ہم تیری آرزو کرتے

Samay kahan tha ke hum teri aarzoo karte

سمے کہاں تھا کہ ہم تیری آرزو کرتےحیات بیت گئی اپنی جستجو کرتے

تلاش یار طرحدار کو بکو کرتےترس گیا ہوں تمنائے رنگ و بو کرتے

جمال دیکھ کے تیرا عرق عرق ہوتااگر تجھے کبھی ہم گل کے روبرو کرتے

یہ اور بات کہ میں سرفراز ہو نہ سکاتمام عمر کٹی کوشش نمو کرتے

تمہارے دل کے بھرم اور بھید کھل نہ سکےکبھی تو ہم سے بھی تم کھل کے گفتگو کرتے

اگر یہ جانتے ہم تیرا دل نہ پگھلے گاتری تلاش میں کیوں اپنا دل لہو کرتے

بہ فیض ہوش اگر اپنا غم غلط ہوتاکبھی نہ آرزوئے ساغر و سبو کرتے

پنپ نہ پائے روایت پرست سوکھ گئےقدیم رنگ کی تقلید ہو بہو کرتے

دعائے مغفرت دل قبول ہو جاتیجو اشک ہائے ندامت سے ہم وضو کرتے

ادائے ناز سے کومل بدن کی خوشبو سےمجھے جو آپ سرافراز سرخ رو کرتے

ہمیں عروج و فراز جنوں کہاں ملتااگر نہ عشق میں نیلام آبرو کرتے

ہوس ہماری محبت سے بھی ابھر آئیکہاں تک اپنی کثافت کی شست و شو کرتے

برنگ میرؔ چمک اٹھتے کرشن موہنؔ ہمجو صرف خون غزل میں کبھو کبھو کرتے

— کرشن موہن