12 اشعار

مقاومت ہے ترا غرور اور بد کلامی

Muqawamat hai tera ghuroor aur bad-kalaami

مقاومت ہے ترا غرور اور بد کلامیمفاہمت ہے ہماری حجت کی ناتمامی

حروف کوچک میں گرچہ لکھا ہے نام نامیمگر ہے پھر بھی جریدۂ شاعری گرامی

دروں تو اس کا نشاط خیز و فسوں اثر ہےمضائقہ کیا اگرچہ ہے سر ورق میں خامی

نئے مضامیں نئے اسالیب سوجھتے کیاکہ تیری قسمت میں ہے روایات کی غلامی

عجب چلن ہے کہ لوگ بچے کو گالیاں دیںاگرچہ ہیں والدین بچہ نہیں حرامی

شرارہ پرداز ہے تری برہمی کا عالمغصیلے ابرو ہیں تیر تیغوں کی بے نیامی

کریں نہ کیوں تیرے حسن پر ناز سبزہ و گلکہ زینت افروز باغ ہے تیری خوش خرامی

ستم مجھے بات بات پر شعر سوجھتے ہیںبلائے جاں بن گئی مری قادر الکلامی

یہ مجھ سے نقاد بے خبر پوچھتا ہے اکثرنہیں ہے کیوں میری شاعری میں غم عوامی

ازل ابد پر محیط ہوں میں بسیط ہوں میںوجود میرا نہ ابتدائی نہ اختتامی

کوئی نہ سمجھے کوئی نہ جانے ترے فسانےعجب یہ مایا عجب یہ سنسار ہے سوامی

ہمیشہ رکھتی ہے دل کو بیتاب کرشن موہنؔعجیب احساس ہے مری حیرت دوامی

— کرشن موہن