7 اشعار

طوفاں کا تیکھا پن اس کے اندر ہے

Toofan ka teekha pan uske andar hai

طوفاں کا تیکھا پن اس کے اندر ہےدل کیا یہ تو اک مواج سمندر ہے

ناچ رہا ہے جس کے اشاروں پر سنسارایک مداری ہے وہ مست قلندر ہے

ہلچل پیدا کر رکھی ہے دنیا میںگو انساں ہیں اصل ہماری بندر ہے

کھیل رہا ہے مایا کا البیلا کھیلمچلا مچلا من تو ایک مچھندر ہے

فقر و غنا میں بھی ہے ظہور کیف اناہر درویش بزعم خویش سکندر ہے

ہر پرانی ہے ایشور ہی کا روپ انوپسمجھو تو سارا سنسار اک مندر ہے

پربت پربت ڈھونڈ رہا ہے جس کو تووہ جیوتی اے جوگی تیرے اندر ہے

— کرشن موہن