17 اشعار

سنبھلیں تو مچلتے رہتے ہیں

Sambhalein to machalte rehte hain

سنبھلیں تو مچلتے رہتے ہیںمچلیں تو سنبھلتے رہتے ہیں

ہم لوگ کٹھن راہوں پر بھیہنستے ہوئے چلتے رہتے ہیں

اس کیف و رنگ کی دنیا میںارمان مچلتے رہتے ہیں

نس دن اپنے من نینن میںکچھ سپنے پلتے رہتے ہیں

یہ ہستی ہے ہر روز نئیہم آنکھیں ملتے رہتے ہیں

یہ سچ ہے اپنے ذہن و دلمچلیں تو بہلتے رہتے ہیں

ہم شمع کی صورت راتوں کوبے خواب پگھلتے رہتے ہیں

سینے میں آشاؤں کے دیےہر رنگ میں جلتے رہتے ہیں

جو ہر دم رنج و راحت کےسانچوں میں ڈھلتے رہتے ہیں

ہر رنگ ہمیں راس آتا ہےیوں پھولتے پھلتے رہتے ہیں

رنگوں کا لطف اٹھانے کوہم رنگ بدلتے رہتے ہیں

پتھرائی ہوئی آنکھوں سے کیوںفوارے ابلتے رہتے ہیں

حیراں ہوں سرد احساس سے بھیکیوں شعلے نکلتے رہتے ہیں

میرے لیے شیتل بادل بھیاک آگ اگلتے رہتے ہیں

کیوں وقت کی لو سنولانے کوہم لوگ مچلتے رہتے ہیں

ہم تو لمحوں کے پتنگوں کودن رات مسلتے رہتے ہیں

ہم کرشن موہنؔ مستی میںہر آن مچلتے رہتے ہیں

— کرشن موہن