5 اشعار

سمے صحرا

Samay Sahra

مدتیں گزریں سمے صحرا بنا تھاجب اداسی اور تنہائی محیط جاں ہوئی تھی

نوجوانی کے دنوں کی بات ہےآج پھر مصروفیت کا سیل اتر جانے کے بعد

بعد ایام شبابگرمیٔ جہد بقا ہے جبکہ اک افسردہ خواب

ہوں اسیر پیچ و تابوقف تنہائی ہے دل کرب آشنا ہے

صبح پیری میں سمے صحرا بنا ہے آج پھر

— کرشن موہن