6 اشعار

سوچ کی شام

Soch Ki Shaam

جسم کا جس روپ کا رس کام کا کسزندگی کی یہ سہانی دھوپ بہلاتی رہی ہے میرے من کو

خوب گرماتی رہی ہے آرزوؤں کی پون کواور چمکاتی رہی ہے اپنے پن کو

دے کے اک نشہ نین کولذتوں میں ڈوب کر بھی

میں ابھرتا ہی رہا ہوںسوچ کی بے تاب لہریں ذہن میں رقصاں رہی ہیں

لیکن اب تو اک اداسی چھا گئی ہےسوچ کی شام آ گئی ہے

زندگی گھبرا گئی ہے

— کرشن موہن