9 اشعار

ایکسیڈنٹ

Accident

ایکسیڈنٹ

«ایکسیڈنٹ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلےسرخ لہو کا تھا اک چھینٹا چکنا گیلا چمکیلا چمکیلا

مٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پیڑھی اس پر سے اتریاور پھر سیندوری سا اک خاکہ ابھرا

جو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبہ ہےپسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ان مٹ

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کامیں نے تو پہلی بار اس دن

اپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھےیوں ہی ذرا اک جست بھری تھی

ابھی تو میرا روغن بھی کچھا تھاکس نے انڈیل دیا یوں مجھ کو اس مٹی پر

اوں اوں میں نہیں مٹتا میں تو ہوں اب بھی ہوںمیں یہ سن کر ڈر جاتا ہوں

کالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گاممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میں

قانون آنکھیں میچے ہوئے ہےقاتل پہیے بے پہرا ہیں

— مجید امجد