19 اشعار

ایک شبیہ

Ek Shabeeh

ایک شبیہ

«ایک شبیہ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دنجب اچانک اسی جگہ اک شکل

میری آنکھوں میں مسکرائی تھیایک پل کے لیے تو ایک وہ شکل

جانے کیا کچھ تھی جھوٹ بھی سچ بھیشاید اک بھول شاید اک پہچان

کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے ابیہ سمجھنے لگا ہوں میں ہی تو ہوں

جس کی خاطر یہ عکس ابھرا ہےکچھ دنوں سے تو اب میں دانستہ

اس گماں کا فریب کھاتا ہوںروز اک شکل اس دوراہے پر

اب مرا انتظار کرتی ہےایک دیوار سے لگی ہر صبح

ٹکٹکی باندھے نیم رخ یکسواب مرا انتظار کرتی ہے

میں گزرتا ہوں مجھ کو دیکھتی ہےمیں نہیں دیکھتا وہ دیکھتی ہے

اس کے چہرے کی ساخت ساعت دیدزرد ہونٹوں کی پتریاں پیتل

سرخ آنکھوں کی ٹکڑیاں قرمزروغنی دھوپ میں دھنستے ہوئے پاؤں

منتظر منتظر اداس اداساک یہی چہرہ ایک پل کے لیے

جانے کیا کچھ تھا لیکن اب تو مجھےاپنی یہ بھول بھولتی ہی نہیں

ایک دن یہ شبیہ دیکھی تھیکچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن

کچھ دنوں سے تو بیتتے ہوئے دناسی اک دن میں ڈھلتے جاتے ہیں

دن گزرتے ہیں اب تو یوں جیسےعمر اس دن کا ایک حصہ ہے

عمر گزری یہ دن نہیں گزراجس طرف جاؤں جس طرف دیکھوں

مجھ سے اوجھل بھی مرے سامنے بھیشکل اک ٹین کے ورق پہ رہی

شکل اک دل کے چوکھٹے میں رہی

— مجید امجد