10 اشعار

اپنے دل میں ڈر۔۔۔

Apne Dil Mein Dar...

اپنے دل میں ڈر۔۔۔

«اپنے دل میں ڈر۔۔۔» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیںاپنے دل میں ڈر ہو تو سب رتیں ڈراؤنی لگتی ہیں اور اپنی طرف ہی گردن

جھک جاتی ہےیہ تو اپنا حوصلہ تھا

اتنے اندیشوں میں بھینظریں اپنی جانب نہیں اٹھیں اور اس گھنگھور گھنے کہرے میں جا ڈوبی ہیں

اور اب میری ساری دنیا اس کہرے میں نہائی ہوئی ہریاول کا حصہ ہےمیری خوشیاں بھی اور ڈر بھی

اور اسی رستے پر میں نے لوہے کے حلقوں میںاک قیدی کو دیکھا

آہن چہرہ سپاہی کی جرسی کا رگ اس قیدی کے رخ پر تھاہر اندیشہ تو اک کنڈی ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچ کے رکھتی ہے اور وہ قیدی بھی

کھچا ہوا تھا اپنے دل کے خوف کی جانب جس کی کوئی رت نہیں ہوتیمیں بھی اپنے اندیشوں کا قیدی ہوں لیکن اس قیدی کے اندیشے تو

اک میرے سوا سب کے ہیںاک وہی اپنے اپنے دکھ کی کنڈی

جس کے کھچاؤ سے اک اک گردن اپنی جانب جھکی ہوئی ہےایسے میں اب کون گھٹاؤں بھری اس صبح بہاراں کو دیکھے گا

جو ان بور لدے اندیشوں پر یوں جھکی ہوئی ہے آموں کے باغوں میںمری روح کے سامنے

— مجید امجد