9 اشعار

ریوڑ

Revad

ریوڑ

«ریوڑ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پرایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگ

جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہےمست چرواہا چراگاہ کی اک چوٹی سے

جب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹیکسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے

بکریاں دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھچھاگلوں میں لیے جب رقص کناں آتی ہیں

کوئی چوڑی خم دوراں پہ چھنک جاتی ہےجست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے

ناچتی ڈار ممکتے ہوئے بزغالوں کیہر جھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہے

سان پر لاکھ چھری سیخ پہ صد پارہ گوشتپھر بھی مدہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جو

بار بار اپنے خط رہ سے بھٹک جاتی ہےشام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر

کھیلتی ہے غم ہستی کی وہ شاداں سی امنگجس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے

— مجید امجد