10 اشعار

ہر جانب ہیں

Har Jaanib Hain

ہر جانب ہیں

«ہر جانب ہیں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہر جانب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ ہزاروں گھنی بھوؤں کے نیچےگھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی حرف زندہہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں بے ستر ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگیابھی ابھی اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفاں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیںان کو زندہ رکھیو حرف زندہ

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں اے حرف زندہاب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفاں والے لفظوں کا آبی فرشاک

بچھ بچھ گیا ہے دور افق کے پیچھے کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤںکے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ حرف زندہتیرے معنوں میں مواج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیںاب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا میں ہوں

— مجید امجد