8 اشعار

اور یہ انساں

Aur Yeh Insaan

اور یہ انساں

«اور یہ انساں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اور یہ انساں ۔۔۔جو مٹی کا اک ذرہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہےاپنے لیے ڈھونڈے تو اس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیںزر کی چمک سے

تہذیبوں کی چھب سےسلطنتوں کی دھج سے

نہیں ۔۔۔نہیں تو۔۔۔پھر کیوں مٹی کے اس ذرے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے

کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیںمیں بتلا دوں

کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریںمیں بتلا دوں

قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرہاپنے آپ میں

جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے سننے والا اس کی سنتا ہےسننے والا جس کی سنے وہ تو اپنے مٹی ہونے میں بھی انمول ہے

— مجید امجد