8 اشعار

پہاڑوں کے بیٹے

Paharon ke Bete

پہاڑوں کے بیٹے

«پہاڑوں کے بیٹے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہاجہاں صرف بے مہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما

پہاڑوں کے بیٹےچنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں سنگ خارا کے ریزے

سجل دودھیا نرم جسم اور کڑے کھردرے سانولے دلشعاعوں ہواؤں کے زخمی

چٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیںوطن ڈھیر اک ان منجھے برتنوں کا

جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں در بہ در ڈھونڈھتی ہیںوطن وہ مسافر اندھیرا

جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کرکسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے

ندی بھی زر افشاں دھواں بھی زر افشاںمگر پانیوں اور پسینوں کے انمول دھارے میں جس درد کی موج ہے عمر پیما

ضمیروں کے قاتل اگر اس کو پرکھیںتو سینوں میں کالی چٹانیں پگھل جائیں!

— مجید امجد