18 اشعار

ریڈنگ روم

Reading Room

ریڈنگ روم

«ریڈنگ روم» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

میز پر اخبار کے پھیلے ورقبکھرے بکھرے تیرہ تیرہ چاک چاک

ڈھل گئی ہے قالب الفاظ میںسینۂ ہستی کی آہ دردناک

پاس ہی دیوار کو ٹیکے ہوئےریڈیو گرم سخن محو بیاں

چیختی ہیں جامۂ آواز میںخون کے چھینٹے لہو کی بوندیاں

شام ریڈنگ روم کی مغموم شامچند کان اعلانچی کی بات پر

چند آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئیںمرتکز اخبار کے صفحات پر

ایک کمرے میں سمٹ کر آ گئےکتنے دکھڑوں کے صدا پیکر حروف

کتنے دردوں کے مسطر زمزمےکتنے اندھے گیانی بہرے فلیسوف

پھر بھی کچھ ادراک میں آتا نہیںکیا ہے رقص گردش ایام کیا

اک شکستہ ناؤ اک خونی بھنورکیا ہے اس افسانے کا انجام کیا

یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیںچھت کے نیچے روزنوں کے درمیاں

گول گول آنکھوں کے اندر محو دیدکالے پارے کی مرقص پتلیاں

کاش یہ حیراں کبوتر جانتےخفتہ ہے ان کاغذوں کی سطح پر

کتنے پھنکتے آشیانوں کا دھواںکتنے نخچیروں کی آہوں کے شرر

ہیں ان آوازوں کے اندر پر کشاکتنے کرگس جن کو مرداروں کی بو

کھینچ لائی ہے سر دیوار باغچھت کے نیچے مضطرب نظارہ خو

فکر مند آنکھوں میں حیراں پتلیاںیہ کبوتر دیکھتے تھکتے نہیں

دیکھتے ہیں سوچتے ہیں کیا کریںیہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں

— مجید امجد