14 اشعار

عورت

Aurat

عورت

«عورت» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانیحیات انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی

جہان الفت تری قلمرو حریم دل تیری راجدھانیبہار فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ

نظام کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹفروغ صد کائنات تیری جبین سیمیں کی ضو فشانی

بھڑکتے سینوں میں بس رہی ہیں قرار بن کر تری ادائیںترستی روحوں کو جام عشرت پلا رہی ہیں تری وفائیں

رگ جہاں میں تھرک رہی ہے شراب بن کر تری جوانیدماغ پروردگار میں جو ازل کے دن سے مچل رہا تھا

زبان تخلیق دہر سے بھی نہ جس کا اظہار ہو سکا تھانمود تیری اسی مقدس حسیں تخیل کی ترجمانی

ہے وادی نیل پر ترا ابر زلف سایہ کناں ابھی تکہیں جام ایراں کی مے میں تیرے لبوں کی شیرینیاں ابھی تک

فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیث یوناں کی خوں چکانیہے تیری الفت کے راگ پر موج رود گنگا کو وجد اب تک

تری محبت کی آگ میں جل رہا ہے صحرائے نجد اب تکجمال زہرہ ترے ملائک فریب جلووں کی اک نشانی

تری نگاہوں کے سحر سے گل فشاں ہے شعر و ادب کی دنیاترے تبسم کے کیف سے ہے یہ غم کی دنیا طرب کی دنیا

ترے لبوں کی مٹھاس سے شکریں ہے زہراب زندگانیترا تبسم کلی کلی میں ترا ترنم چمن چمن میں

رموز ہستی کے پیچ و خم تیرے گیسوؤں کی شکن شکن میںکتاب تاریخ زندگی کے ورق ورق پر تری کہانی

جو تو نہ ہوتی تو یوں درخشندہ شمع بزم جہاں نہ ہوتیوجود ارض و سما نہ ہوتا نمود کون و مکاں نہ ہوتی

بشر کی محدودیت کی خاطر ترستی عالم کی بیکرانی

— مجید امجد