12 اشعار

بس سٹینڈ پر

Bus Stand Par

بس سٹینڈ پر

«بس سٹینڈ پر» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئیخدا سے کیا گلہ بھائی

خدا تو خیر کس نے اس کا عکس نقش پا دیکھانہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

مگر توبہ مری توبہ یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہےیہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

ابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھےابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محروم زنخداں تھے

ردائے صد زماں اوڑھے لرزتا کانپتا بیٹھاضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا

مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستہ ہےہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

خدا اس کا خدائی اس کی ہر شے اس کی ہم کیا ہیںچمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیں

ہماری ہی طرح جو پائمال سطوت میری و شاہی میںلکھوکھا آب دیدہ پا پیادہ دل زدہ واماندہ راہی ہیں

جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی گم پیما لکیروں میںدکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں

ضرور اک روز بدلے گا نظام قسمت آدمبسے گی اک نئی دنیا سجے گا اک نیا عالم

شبستاں میں نئی شمعیں گلستاں میں نیا موسموہ رت اے ہم نفس جانے کب آئے گی

وہ فصل دیر رس جانے کب آئے گییہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی

— مجید امجد