14 اشعار

آٹوگراف

Autograph

آٹوگراف

«آٹوگراف» مجید امجد کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطےکتابچے لیے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاںڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھےابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلے

گرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کےکھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف

بیاض آرزو بکفنظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

لرز رہا ہے دم بہ دمکمان ابرواں کا خم

کوئی جب ایک ناز بے نیاز سےکتابچوں پہ کھنچتا چلا گیا

حروف کج تراش کی لکیر سیتو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنتحنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئیوہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا

وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں پھریحسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی میں بے نشاںمیں پا بہ گل

نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہےیہ لوح دل یہ لوح دم

نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں