6 اشعار

جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل

Jāvedāñ qadron kī shama'ein bujh ga'iiñ to jal uṭhī taqdeer-e-dil

جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل

«جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل» مجید امجد کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دلآج اس مٹی کے ہر ذی روح ذرے میں بھی ہے تصویر دل

اپنے دل کی راکھ چن کر کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میںمیں بھی اک سیال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیر دل

میں نہ سمجھا ورنہ ہنگاموں بھری دنیا میں اک آہٹ کے سنگکوئی تو تھا آج جس کا قہقہہ دل میں ہے دامن گیر دل

رت بدلتے ہی چمن چو ہم صفیر اب کے بھی کوسوں دور سےآ کے جب اس شاخ پر چہکے مرے دل میں بجی زنجیر دل

کیا سفر تھا بے صدا صدیوں کے پل کے اس طرف اس موڑ تکپے بہ پے ابھرا سنہری گرد سے اک نالۂ دلگیر دل

وار دنیا نے کئے مجھ پر تو امجدؔ میں نے اس گھمسان میںاپنا سینہ چیر کر رکھ دی نیام حرف میں شمشیر دل

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں