6 اشعار

بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی

Badhi jo had se to saare tilism tod gayi

بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی

«بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئیوہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

ابد کی راہ پہ بے خواب دھڑکنوں کی دھمکجو سو گئے انہیں بجھتے جگوں میں چھوڑ گئی

یہ زندگی کی لگن ہے کہ رت جگوں کی ترنگجو جاگتے تھے انہی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی

وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہاکبھی کبھی تو مرے دل کا ساتھ چھوڑ گئی

رکا رکا ترے لب پر عجب سخن تھا کوئیتری نگہ بھی جسے نا تمام چھوڑ گئی

فراز دل سے اترتی ہوئی ندی امجدؔجہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ گئی

— مجید امجد