8 اشعار

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

Bane ye zehr hi wajah-e-shifa jo tu chahe

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

«بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہےخرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے

یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میںہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے

تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہاجو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے

جب ایک سانس گھسے ساتھ ایک نوٹ پسےنظام زر کی حسیں آسیا جو تو چاہے

بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاداب اے اسیر کمند ہوا جو تو چاہے

ذرا شکوہ دوعالم کے گنبدوں میں لرزپھر اس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہاجو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجدؔکھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ جو تو چاہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں