7 اشعار

ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

Har waqt fikr-e-marg-e-gharibana chahiye

ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

«ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئےصحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے

دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلورستے میں اک سلام رفیقانہ چاہئے

آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہئے

کیا پستیوں کی ذلتیں کیا عظمتوں کے فوزاپنے لیے عذاب جداگانہ چاہئے

اب درد شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریکاب کیا ہو اب تو نیند کو آ جانا چاہئے

روشن ترائیوں سے اترتی ہوا میں آجدو چار گام لغزش مستانہ چاہئے

امجدؔ ان اشک بار زمانوں کے واسطےاک ساعت بہار کا نذرانہ چاہئے

— مجید امجد