8 اشعار

برہنہ

Barahna

برہنہ

«برہنہ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

فرنگی جریدوں کے اوراق رنگینہنستی، لچکتی، دھڑکتی، لکیریں

کٹیلے بدن تیغ کی دھار جیسے!لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!

نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ باہیںمدور اٹھانیں، منور ڈھلانیں،

ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہےہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!

خطوط برہنہ کے ان آئینوں میںحسیں پیکروں کے شفاف خاکے

کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیںوہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!

انہیں پھونک دے گی بے مہر دنیافرنگی جریدوں کے اوراق رنگین

کو اک بار حسرت سے تک لوپھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!

— مجید امجد