14 اشعار

راتوں کو

Raaton Ko

راتوں کو

«راتوں کو» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہےمیٹھی سی ہنسی ہنس جاتا ہے

احساس کی لہریں ان تاریک جزیروں سے ٹکراتی ہیںجہاں نغمے پنکھ سنوارتے ہیں

سنگین فصیلوں کے گنبد سے پہرے دار پکارتے ہیںکیا کرتا ہے

دل ڈرتا ہےدل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

ان سونی تنہا راتوں میںدل ڈوب کے گزری باتوں میں

جب سوچتا ہے کیا دیکھتا ہے ہر سمت دھوئیں کابادل ہے وادی و بیاباں جل تھل ہے

ذخار سمندر سوکھے ہیں پر ہول چٹانیں پگھلی ہیںدھرتی نے ٹوٹتے تاروں کی جلتی ہوئی لاشیں نگلی ہیں

پہنائے زماں کے سینے پر اک موج انگڑائی لیتی ہےاس آب و گل کی دلدل میں اک چاپ سنائی دیتی ہے

اک تھرکن سی اک دھڑکن سی آفاق کی ڈھلوانوں میں کہیںتانیں جو ہمک کر ملتی ہیں چل پڑتی ہیں رکتی ہی نہیں

ان راگنیوں کے بھنور بھنور میں صدہا صدیوں گھوم گئیںان قرن آلود مسافت میں لاکھ آبلے پھوٹے دیپ بجھے

اور آج کسے معلوم ضمیر ہستی کا آہنگ تپاںکس دور کے دیس کے کہروں میں لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں

اس سانس کی رو تک پہنچا ہےاس میری میز کی جلتی ہوئی قندیل کی لو تک پہنچا ہے

کون آیا ہے کون آتا ہے کون آئے گاانجانے من کی مورکھتا کو کیا کیا دھیان گزرتا ہے

دل ڈرتا ہےدل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

— مجید امجد