8 اشعار

بول انمول

Bol Anmol

بول انمول

«بول انمول» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

اب یہ مسافت کیسے طے ہو اے دل تو ہی بتاکٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے پھر بھی وہی صحرا

چیت آیا چیتاونی بھیجی اپنا وچن نبھاپت جھڑ آئی پتر لکھے آ جیون بیت چلا

خوشیوں کا مکھ چوم کے دیکھا دنیا مان بھریدکھ وہ سجن کٹھور کہ جس کو روح کرے سجدہ

اپنا پیکر اپنا سایہ کالے کوس کٹھندوری کی جب سنگت ٹوٹی کوئی قریب نہ تھا

اپنے گرد اب اپنے آپ میں گھلتی سوچ بھلیکس کے دوست اور کیسے دشمن سب کو دیکھ لیا

کانچ کی اک دیوار زمانہ آمنے سامنے ہمنظروں سے نظروں کا بندھن جسم سے جسم جدا

راہیں دھڑکیں شاخیں کڑکیں اک اک ٹیس اٹلکتنی تیز چلی ہے اب کے دھول بھری ہوا

دکھڑے کہتے لاکھوں مکھڑے کس کس کی سنئےبولی تو اک اک کی ویسی بانی سب کی جدا

— مجید امجد