7 اشعار

کبھی کبھی تو زندگیاں

Kabhi Kabhi To Zindagiyan

کبھی کبھی تو زندگیاں

«کبھی کبھی تو زندگیاں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیںجتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہےاور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اور گاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہر جانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں روز و شب تیزی تیزی سےانسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی تنخواہیں پاتے ہیںلیکن کس کو خبر ہے ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے راستوں پر نہ دعا کا سایہ ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بے چارگی جس کی بے صداہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں

اور قطبوں سے قطبوں تک اڑ اڑ کر جانے والے تھکے پروں کی کمانیں بھی تواک منزل پہ چمکتی آبناؤں کی سمت لچک جاتی ہیں

لیکن ہائے وہ منزلیں جن تک ہر سچائی رستہ ہے اور ہر سچائی موت کا جیتا نام ہے

— مجید امجد