6 اشعار

غریب

Ghareeb

غریب

«غریب» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ننھی بھولی میلے میلے گالوں والی بے سدھ سی اک بچیتیری جانب دیکھ رہی ہے دیکھ اس کی آنکھیں تیری توجہ کی پیاسی ہیں

اس کی نازک بے حس ٹھوڑی کو اپنی انگلی کی سنہری پور سے مس تو کر اوراس سے اتنا تو پوچھ اچھی بلو تو کیوں چپ ہے

اور جب وہ منہ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے ہی چہرے پہ جھکا لےتو ہی بڑھ کر اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے لگا لے ہاں ایسے ہی

کیوں اس جھنجھیلو نے تجھ سے کہا کیایہ کیا تیری آنکھیں بھیگ گئیں کیوں

اس نے تجھ سے کہا کیا ساتوں آسمانوں کے مالکاتنے پتلے دل والے مالک ہم بھی روز اس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں جی ایسے موقعوں پر

— مجید امجد