7 اشعار

بندا

Bunda

بندا

«بندا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتارات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میںصبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملولتو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میںجوں ہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھےکان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتییوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوشکاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا

— مجید امجد