10 اشعار

پنواڑی

Panwari

پنواڑی

«پنواڑی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاریآنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری

نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماریآگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری

پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاریعمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری

چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزریسگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری

کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزریچند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری

کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلیدو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی

دو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلیاور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی

پنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلیصبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے

ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائےشام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے

جھن جھن ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائےایک پتنگا دیپک پر جل جائے دوسرا آئے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں