12 اشعار

امروز

Imroz

امروز

«امروز» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کا کنول تیرتا ہےکسی ان سنی دائمی راگنی کی کوئی تان آزردہ آوارہ برباد

جو دم بھر کو آ کر مری الجھی الجھی سی سانسوں کے سنگیت میں ڈھل گئی ہےزمانے کی پھیلی ہوئی بیکراں وسعتوں میں یہ دو چار لمحوں کی میعاد

طلوع و غروب مہ و مہر کے جاودانی تسلسل کی دو چار کڑیاںیہ کچھ تھرتھراتے اجالوں کا رومان یہ کچھ سنسناتے اندھیروں کا قصہ

یہ جو کچھ کہ میرے زمانے میں ہے اور یہ جو کچھ کہ اس کے زمانے میں میں ہوںیہی میرا حصہ ازل سے ابد کے خزانوں سے ہے بس یہی میرا حصہ

مجھے کیا خبر وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیوں تلے پس چکے ہیںمقدر کے کتنے کھلونے زمانوں کے ہنگامے صدیوں کے صد ہا ہیولے

مجھے کیا تعلق میری آخری سانس کے بعد بھی دوش گیتی پہ مچلےمہ و سال کے لا زوال آبشار رواں کا وہ آنچل جو تاروں کو چھو لے

مگر آہ یہ لمحۂ مختصر جو مری زندگی میرا زاد سفر ہےمرے ساتھ ہے میرے بس میں ہے میری ہتھیلی پہ ہے یہ لبا لب پیالہ

یہی کچھ ہے لے دے کے میرے لیے اس خرابات شام و سحر میں یہی کچھیہ اک مہلت کاوش درد ہستی یہ اک فرصت کوشش آہ و نالہ

یہ صہبائے امروز جو صبح کی شاہزادی کی مست انکھڑیوں سے ٹپک کربدور حیات آ گئی ہے یہ ننھی سی چڑیاں جو چھت میں چہکنے لگی ہیں

ہوا کا یہ جھونکا جو میرے دریچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا گیا ہےپڑوسن کے آنگن میں پانی کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں

یہ دنیائے امروز میری ہے میرے دل زار کی دھڑکنوں کی امیں ہےیہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحیں یہ آہوں سے معمور دو چار شامیں

انہی چلمنوں سے مجھے دیکھنا ہے وہ جو کچھ کہ نظروں کی زد میں نہیں ہے

— مجید امجد