6 اشعار

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

Chāñdnī mein sāya-hāye kākh o kū mein ghūmiye

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

«چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیےپھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

شاید اک بھولی تمنا مٹتے مٹتے جی اٹھےاور بھی اس جلوہ زار رنگ و بو میں گھومیے

روح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھہمہماتی محفلوں کی ہاؤ ہو میں گھومیے

کیا خبر کس موڑ پر مہجور یادیں آ ملیںگھومتی راہوں پہ گرد آرزو میں گھومیے

زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ملتی نہیںزندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے

کنج دوراں کو نئے اک زاویے سے دیکھیےجن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں گھومیے

— مجید امجد