10 اشعار

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

Bachā ke rakkhā hai jis ko ghurūb-e-jāñ ke liye

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

«بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئےیہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے

چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گیفراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے

لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ ان میں جئیںاس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لئے

پکارتی رہی بنسی بھٹک گئے ریوڑنئے گیاہ نئے چشمۂ‌ رواں کے لئے

سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لئےدرخت ابر ہوا بوئے ہمرہاں کے لئے

سواد نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملےکہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لئے

تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطرمیں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لئے

ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیسجو میرے دل میں ہے اس شہر بے مکاں کے لئے

یہ نین جلتی لوؤں جیتی نیکیوں والےگھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارض جاں کے لئے

ضمیر خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجدؔکہ نیند مجھ کو ملی خواب رفتگاں کے لئے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں