8 اشعار

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

Chehra udaas udaas tha maila libaas tha

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

«چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھاکیا دن تھے جب خیال تمنا لباس تھا

عریاں زمانہ گیر شررگوں جبلتیںکچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا

اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے کون تھاسنبھلی ہوئی نگاہ تھی سادہ لباس تھا

یادوں کے دھندلے دیس کھلی چاندنی میں راتتیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا

ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روحبے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا

صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میںاے درد شادماں ترا کیا کیا لباس تھا

دیکھا تو دل کے سامنے سایوں کے جشن میںہر عکس آرزو کا انوکھا لباس تھا

امجدؔ قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کاہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں