15 اشعار

میری مانند خود نگر تنہا

Meri manind khud nagar tanha

میری مانند خود نگر تنہا

«میری مانند خود نگر تنہا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

میری مانند خود نگر تنہایہ صراحی میں پھول نرگس کا

اتنی شمعیں تھیں تیری یادوں کیاپنا سایہ بھی اپنا سایہ نہ تھا

میرے نزدیک تیری دوری تھیکوئی منزل تھی کوئی عالم تھا

ہائے وہ زندگی فریب آنکھیںتو نے کیا سوچا میں نے کیا سمجھا

صبح کی دھوپ ہے کہ رستوں پرمنجمد بجلیوں کا اک دریا

گھنگھروؤں کی جھنک منک میں بسیتیری آہٹ! میں کس خیال میں تھا

پھر کہیں دل کے برج پر کوئی عکسفاصلوں کی فصیل سے ابھرا

پھول مرجھا نہ جائیں بجروں میںمانجھیو کوئی گیت ساحل کا

وقت کی سرحدیں سمٹ جاتیںتیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا

عمر جلتی ہے بخت جلووں کےزیست مٹتی ہے بھاگ مٹی کا

رہیں دردوں کی چوکیاں چوکسپھول لوہے کی باڑ پر بھی کھلا

جو خود ان کے دلوں میں تھا تہ سنگوہ خزانہ کسی کسی کو ملا

لاکھ قدریں تھیں زندگانی کییہ محیط اک عجیب زاویہ تھا

ہے جو یہ سر پہ گیان کی گٹھریکھول کر بھی اسے کبھی دیکھا

روز جھکتا ہے کوئے دل کی طرفکاخ صد بام کا کوئی زینا

— مجید امجد