7 اشعار

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے

Us apni kiran ko aati hui subhon ke hawale karna hai

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے

«اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 19 سیکنڈ ہے۔

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہےکانٹوں سے الجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے

شاید وہ زمانہ لوٹ آئے شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیںان اجڑی اجڑی نظروں میں پھر کوئی فسانہ بھرنا ہے

یہ سوز دروں یہ اشک رواں یہ کاوش ہستی کیا کہیےمرتے ہیں کہ کچھ دن جی لیں ہم جیتے ہیں کہ آخر مرنا ہے

اک شہر وفا کے بند دریچے آنکھیں میچے سوچتے ہیںکب قافلہ ہائے خندۂ گل کو ان راہوں سے گزرنا ہے

اس نیلی دھند میں کتنے بجھتے زمانے راکھ بکھیر گئےاک پل کی پلک پر دنیا ہے کیا جینا ہے کیا مرنا ہے

رستوں پہ اندھیرے پھیل گئے اک منزل غم تک شام ہوئیاے ہم سفرو کیا فیصلہ ہے اب چلنا ہے کہ ٹھہرنا ہے

ہر حال میں اک شوریدگیٔ افسون تمنا باقی ہےخوابوں کے بھنور میں بہہ کر بھی خوابوں کے گھاٹ اترنا ہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں